بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || گذشتہ دنوں جے پی مورگن بینکنگ ہولڈنگ نے تیل کی منڈی کی پیش گوئی کی ہفتہ وار رپورٹ ایک غیر متوقعہ جملے سے شروع کی: "اب تک پہلی بار، ایران کے ساتھ تصادم کے آغاز سے ہمارے پاس کوئی بنیادی منظرنامہ نہیں ہے۔ ہم واقعی نہیں جانتے کہ اس صورتحال کی تصویرکشی کیوںکر کریں اور اس کے مستقبل کا اندازہ کیسے لگائیں؟"
اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کے اسپیکر، ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے مالی منڈیوں کے بڑے تجزیہ کاروں کے اس بے مثال موقف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک نیٹ ورک پر لکھا:
یہ صورتحال بالکل شروڈنگر کے تضاد (Schrödinger's paradox) سے ملتی جلتی ہے: امریکی سلطنت شروڈنگر کی اسی الماری اور گرتی ہوئی پلیٹوں جیسی ہے؛ یہ بظاہر اپنی بالادستی اور برتر طاقت کی اداکاری کرتی ہے لیکن حقیقت میں بالکل زدپذیر، اور خطرے مین گھری ہوئی ہے اور کوشش کرتی ہے کہ اپنے جرم کا حساب دیئے بغیر، اور کوئی تاوان ادا کئے بغیر، ایران کا گلا گھونٹ دے، جو کہ ناممکن ہے۔
یہ آخری کھیل کسی بھی سانچے میں پیشگوئی اور تخروپن (Simulation) کے قابل نہیں ہے۔ اس الماری کا دروازہ بالآخر کھل جائے گا، اور ابھی سے ایران کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر ہے اور صورتحال کو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔
قالیباف نے اس ٹویٹ میں شروڈنگر کی پلیٹوں کے مشہور انٹرنیٹ میم (meme) کو بھی نشر کر دیا۔ وہ تصویر جس میں پلیٹیں بظاہر صحیح و سالم لیکن ہر لمحہ گرنے اور ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں! ایک تصویر خطے میں امریکہ کی زدپذیری اور نازک صورتحال دکھانے کے لئے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110


آپ کا تبصرہ